تعارفی نشست

 اپنے اندر پنپنے والے خیالات کے اظہار کے لیے انسان بہت سے ذرائع استعمال کرتا ہے جس میں اس کا فطری ذوق بھی اس کا بہت حد تک ممد و معاون ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا اظہاریہ بہتر انداز میں قارئین تک پہنچتا ہے ۔ اظہارِ فکر میں کوئی نثر کا سہارا لیتا ہے تو کوئی اصنافِ سخن میں شاعری کو اپنی منزل بناتا ہے ،اس سارے قضیے میں خوش قسمت وہ انسان ہے جسے خالقِ کائنات کی طرح مدحتِ مصطفےٰ ﷺ کرنا نصیب ہو جائے ۔انہی سعادت افروز افراد میں ایک روشن نام "مدحت کدہ " کے معمار ،نوجوان غزل گو شاعر جناب الیاس بابر اعوان صاحب کا ہے جن کو غزل سے نعت کا سفر بہت بہت مبارک ہو 

نعتِ رسول ﷺ کے پھول بکھیرنا بہت بڑی سعادت ہے اور یہ رزقِ سخن کسی کی جاگیر نہیں ہے کہ یہ عام آدمی کو حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ عشقِ رسول ﷺ کسی حثیت اور وضع قطع کو نہیں دیکھتا بلکہ یہ خود بخود اپنا راستہ بنا لیتا ہے اور یہی امر الیاس بابر صاحب کی نعتیہ شاعری میں بجا طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح انہوں نے غزل سے نعت کا سفر بہترین انداز میں طے کیا ہے جس میں انہوں نے جدت و انفراد کا سفر اتنی بڑی کامیابی سے مکمّل کیا ہے کہ آپ کے قدم جدت اور انفرادیت کے چکر میں کہیں بھی ڈگمگائے نہیں ہیں اور میرے خیال میں یہ بہت بڑی کامیابی ہے ،آپ کے منفرد تخیّل نے کہنہ مشق شعراء کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے جو آپ کی نعتیہ شاعری کے لیے ایک مبارک شگون ہے ،آپ کے اشعار میں کیف اور لطف کی کیفیت جابجا قاری سے تقاضا کرتی ہے کہ اسے ابتدا سے انتہا تک پڑھا جائے 

آپ کی شاعری فنی محاسن کا حسین مرقع ہے کہ کہیں کوئی جھول اور ڈھیلا پن محسوس نہیں ہو گا ،آپ ربط اور تلازمے کا خوب التزام رکھتے ہوئے متاثر کن مضامین لاتے ہیں جن سے  پڑھنے کو الگ لطف اور کیف مہیا ہوتا ہے ،حضور ﷺ مضبوط تعلق ،سیرتِ طیبہ کی تعلیم اور شہر ِ مدینہ کی محبّت اور فضائل آپ کی نعتیہ شاعری کے خاص مضامین ہیں ،آپ عقیدت کے ساتھ ساتھ مضبوط و محکم عقیدے کے حامل شاعر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مدحت کدہ کی سطر سطر ،حرف حرف اور لفظ سے اس امر کا گواہ ہے کہ آپ کے تخیّل اور فکر میں خوش عقیدگی اور محبتِ رسولﷺ آپ کی شخصیت کا مستحکم حوالہ ہے 

آئیے اب اس مدحت کدے سے کچھ پھول چنتے ہیں جن کو پڑھ کر آپ کا بھی دل اندر سے کہے کہ یہ مدحت کدہ آپ کی لائبریری کا ضرور حصہ ہونا چاہیے 

اشک پلکوں سے ابھی دہلیز تک پہنچا نہ تھا 
اور لبالب بھر گئے رحمت کے پیمانے مجھے 

میں دے کے جاؤں گا بچوں کو عشق و نعتِ رسول 
سو اپنے بعد انہیں بے سہارا نئیں کروں گا

نظر میں جب سے بسا ہے مدینہ پاک کا رنگ
کراچی ہو کہ ہو لاہور سبز دیکھتا ہوں

نعت پڑھتے ہوئے اک حجرے میں آجاتا ہوں 
جس کی کھڑکی سے پس ِ کون و مکاں دکھتا ہے 

دھوپ میں بیٹھے فقیروں کی خبر ہے ان کو 
دور تک سایہء دیوار بڑھا دیتے ہیں 

جب سے بنی ہے سیرتِ آقا مرا نصاب 
جتنے بھی غیر تھے انہیں اپنا بناؤں میں 

کچھ اور زادِ رہ کے علاوہ تو ہے نہیں 
لوگ اپنا پاسپورٹ تو یہ دل دکھاؤں میں 

یہ چاند ستارے تو فقط گرد ِ سفر ہیں 
منزل ہے مری نقشِ کف پائے محمد 

اتریں گے آسماں سے ملک دیکھنے تجھے 
میرے نبی کے جیسا کبھی مسکرا کے دیکھ

میں  کیا کہوں کہ مرے پاس لفظ تک نہیں ہیں 
عیاں ہیں آپ پہ سب مجھ سے خستہ حال کے دن

در رسول سے فرمان جاری ہوتے ہیں 
سفر کا یوں ہی نہیں تانا بانا بنتا ہے 

وہیں قطار بنا کرتی ہے غلاموں کی
جہاں پہ بانٹنے والا دکھائی دیتا ہے 

چہرے پہ کیسے نور کا موسم اترتا ہے 
بس ایک بار خاکِ مدینہ کو مل کے دیکھ 

غزل سے نعت کی جانب سفر کچھ ایسا ہے 
میں بت بناتا تھا اب زندگی بناتا ہوں 

خود آ کے ملتا ہے منزل کا راستہ مجھ سے 
کہ یہ فقیر فقط ساربان رحمت ہے 

ہمارے گھر میں تھی کچھ نعت خوانوں کی دعوت 
گلاس اکٹھے کیے اور سب کا پانی پیا

ترکہ تاریخ میں بس دو ہی تو مضمون ہیں 
دشمنوں کی نفرتیں اور دل ملانے آپ کے 

ہمیں تو ماں نے سکھایا تھا پھول چننے کا فن
ہمارے گھر میں ہمیشہ سے ہے بہارِ درود 

باقی تو مشینیں ہیں جو ملتی ہیں دکاں سے 
دل ملتا ہے طیبہ کے سفینے سے مرے دوست 


یہ کائنات ہے قائم اس ایک فلسفے پر 
ملے گا آپ سے جو ،تو اسے خدا ملے گا 

کون ناموسِ رسالت پہ لٹائے گا حیات 
عشق والوں نے کہا ایک زباں بسم اللہ 

مجھ گنہگار تک آتی ہے مدینہ کی ہوا 
ورنہ کون آج پرائے کی طرف جاتا ہے 

میں کم عمل ضرور ہوں پر بد عقیدہ نئیں 
وہ آنکھ کیا ہے آنکھ جو لوحِ خمیدہ نئیں 

ختم الرسل عقیدہ نہیں اصل دین ہے 
مجھ سا گناہ گار اسی ایمان پر چلا

یہ اشک ،سانس ،یہ حب جمالِ مصطفوی 
ہمارا رزق ہے ہم کو خدا سے ملتا ہے 

کس نے سمجھایا حسین ابنِ علی سے بہتر 
خاک اور خون کی تاثیر الگ ہوتی ہے 

جہاں سے بھی مدحت کدہ کو پڑھا جائے آپ کو معیاری اشعار پڑھنے کو ملیں گے اور ایک اچھے شاعر کی یہی خوبی اور کمال ہوتا ہے کہ اس کا قاری کسی بھی لمحے بوریت کا شکار نہ ہو 
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالی مدحت کدہ کے شاعر کو مستقبل میں بھی ایسے اور خوبصورت مدحت کدے تعمیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین 
محمد احمد زاہد